نئی دہلی،29؍ مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) سنٹرل انڈین ٹریڈ یونینز (سی آئی ٹی یو) کی دو روزہ ملک گیر ہڑتال کے پہلے دن پیر کو ملا جلا اثر رہا۔ صنعت، بینکنگ، بجلی اور کان کنی کے شعبوں میں کاروبار متاثر ہوا جب کہ سڑکوں کی نقل و حمل، ٹرین اور بازاروں میں ہموار آپریشن نظر آیا۔
پرائیویٹائزیشن، مزدور مخالف پالیسیوں اور مہنگائی کے خلاف بلائی گئی اس سی آئی ٹی یو کی ہڑتال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حامی بھارتیہ مزدور سنگھ شامل نہیں ہے۔
بائیں بازو اور دراوڑ منیتر کزگم نے کارکنوں کی حمایت میں پارلیمنٹ کے احاطے میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے احتجاج کیا۔
سی آئی ٹی یو نے دعویٰ کیا ہے کہ کیرلا، مغربی بنگال، تریپورہ، ہریانہ اور تمل ناڈو میں ہڑتال کا کافی اثر پڑا ہے۔ صنعتی اداروں سمیت بینک، مالیاتی ادارے اور ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر رہا۔ سی آئی ٹی یو نے بینکنگ اور انشورنس سیکٹر میں ہڑتال کو کامیاب قرار دیا ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومت سے متعلق اداروں کے ملازم ہڑتال پر ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیلی کام، بندرگاہ، پیٹرولیم، اسٹیل، سیمنٹ، کوئلہ اور بجلی کے شعبوں میں مکمل ہڑتال رہی اور کوئی کام کاج نہیں ہوا۔ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں بھی کوئی کام کاج نہیں ہوا۔
سی آئی ٹی یو نے کہا کہ تقریباً 80 لاکھ آنگن واڑی ورکرس، آشا ورکرس اور مڈ ڈے میل ورکرس نے بھی ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ تعمیری مزدوروں، بیڑی مزدوروں، ریہڑی پٹری کے دکانداروں، گھریلو ملازموں اور صفائی کے کارکنوں نے بھی ہڑتال میں حصہ لیا۔ دیہی علاقوں میں زرعی مزدوروں اور منریگا کارکنوں نے بھی ہڑتال کی حمایت کی۔